Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
گرم پانی سے وضوکرنا
- Fatwa no.
- 835-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) دھوپ کے گرم پانی سے وضو کرنا اور اسی طرح اگر گھر میں ہیٹر وغیرہ پر پانی گرم کیا، تو اس سے وضو کا کیا حکم ہو گا ؟
Answer (beginning)
جو پانی گرم ملک میں گرم موسم میں سونے چاندی کے سوا کسی اور دھات کے برتن میں دھوپ میں گرم ہو گیا، تو جب تک گرم ہے اس سے وضو اور غسل کرنا مکروہ ہے اور اسے پینے سے بھی بچنا چاہیے، بلکہ کسی طرح بھی وہ پانی بدن تک نہ پہنچنے دینا چاہیے ، یہاں تک کہ اگر اس سے کپڑا بھیگ جائے، تو جب تک ٹھنڈا نہ ہولے اس کے پہننے سے بچیں کہ اس پانی کے استعمال میں اندیشہ برص (یعنی بدن پر سفید داغ کی بیماری لگنے کا اندیشہ ) ہے ، پھر بھی اگر وضو یا غسل کر کیا، تو ہو جائے گا اور یادر ہے کہ اس سے وضو کی کراہت تنزیہی ہے تحریمی نہیں یعنی اس سے وضو کرنا پسندیدہ نہیں، لیکن وضو کر لیا، تو گناہ بھی نہیں اور یہ کراہت بھی اس وقت ہے،…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.