Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بلغم کی قے سے وضوٹوٹے گایانہیں ؟
- Fatwa no.
- 824-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کھانسی کی وجہ سے قے والی کیفیت بنی اور بہت زیادہ بالظلم باہر آئے، تو کیا اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟
Answer (beginning)
کھانسی کے سبب قے والی کیفیت بننے کی وجہ سے اگر بلغم منہ سے باہر آجائے ، تو اس کی وجہ سے وضو نہیں ٹوٹے گا، اگر چہ وہ بلغم بہت زیادہ ہو، کیونکہ بلغم کی قے سے وضو نہیں ٹوٹتا، چاہے جتنی بھی ہو۔ فتاوی ہندیہ میں ہے " وإن قاء ملء الفم بلغما إن نزل من الرأس لم ينتقض وإن صعد من الجوف لم ينتقض عندهما خلافا لأبي يوسف - رحمه الله تعالى-هذا إذاقاءبلغماصرفا" ترجمہ:اور اگر کسی کو منہ بھر بلغم کی قے آئی تو اگر سر سے اتری ہے تو وضو نہیں توڑے گی اور اگر جوف (معدے) سے آئی ہے تو بھی طرفین رحمھما اللہ کے نزدیک وضو نہیں توڑے گی، اس میں امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا اختلاف ہے ، یہ اس صورت میں ہے جب خالص بلغم کی قے ہو۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.