Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

شوہرکونام کے ساتھ پکارنا

Fatwa no.
815-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) بچے ہونے سے پہلے بیوی شوہر کو کس نام سے پکارے، جبکہ شوہر کو اپنے نام کے ساتھ پکارنا، پسند نہ ہو۔

Answer (beginning)

عورت کو چاہیے کہ کسی ایسے لفظ سے پکارے کہ جو شوہر کو پسند ہو ، مثلاً: حضور، میرے سرتاج، یا بھیجے وغیرہ ہوں تو مثلاً فلاں کے چا یا شوہر کوئی لفظ بتاتا ہے کہ مجھے اس نام سے بلایا کرو اور اس میں کوئی شرعی خامی نہیں تو اس لفظ سے پکاریں۔ الغرض شوہر کو نام کے ساتھ نہ پکارا جائے کہ اسے نام سے پکارنا مکروہ ہے لیکن اگر کسی نے پکار لیا تو اس سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور نہ اسے گناہ ہو گا۔ بہار شریعت میں ہے "عورت کو یہ مکروہ ہے کہ شوہر کو نام لے کر پکارے۔ (در مختار ) بعض جاہلوں میں یہ مشہور ہے کہ عورت اگر شوہر کا نام لے لے تو نکاح ٹوٹ جاتا ہے، یہ غلط ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.