Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عدت میں کیے جانے والے نکاح کاحکم

Fatwa no.
812-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) عدت میں نکاح کرنا حرام ہے تو اگر کسی نے نکاح کر لیا تو کیا نکاح ہو جائے گا؟

Answer (beginning)

عدت میں نکاح کرنا سخت ناجائز و حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے بلکہ عدت میں تو نکاح کا پیغام دینا حرام و گناہ ہے۔ اگر کسی نے عدت میں نکاح کیا تو اس کے متعلق تفصیل یہ ہے کہ : اگر مرد کو نکاح کے وقت عورت کا عدت میں ہونا معلوم تھا تو یہ نکاح باطل ہوا یہاں تک کہ اگر میاں بیوی والے معاملات یعنی ہمبستری بھی ہوئی تو یہ زنا ہوا اور اس دوسرے نکاح کی کوئی عدت نہیں ، اور اس میں متارکہ کی بھی ضرورت نہیں فورا ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں اور پہلے شوہر کی اگر ابھی عدت باقی ہے تو عورت اسے گزار کر اس دوسرے سے یا کسی اور سے نکاح کر سکے گی اور اگر پہلے شوہر کی عدت ختم ہو گئی ہے تو فورا اس دوسرے سے یا کسی…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.