Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نماز میں سیدھے پیر کا انگوٹھا ہل جائے تو کیا حکم ہے ؟
- Fatwa no.
- 811-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) نماز کی حالت میں اپنے سیدھے پیر کا انگوٹھا ملا سکتے ہیں؟
Answer (beginning)
بلاوجہ نہیں چاہیے، کہ بغیر عذر اعضاء کی حرکت کو فقہاء نے مکروہ تنزیہی قرار دیا ہے۔ البتہ نماز میں اگر پاؤں کا انگوٹھا اپنی جگہ سے اٹھ جائے یا ہل جائے تو اس سے نماز پر اثر نہیں پڑتا، چاہے جان بوجھ کر ہو یا انجانے میں۔ عوام میں جو مشہور ہے کہ انگوٹھا اپنی جگہ سے ہٹ جائے تو نماز ٹوٹ جاتی ہے ، یہ درست نہیں۔ مفتی خلیل خان برکاتی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : ” انگوٹھا خواہ انگلی بلکہ پاؤں کا پورا پنجہ اگر اپنی جگہ سے ہل جائے یا سرک جائے تو اس سے نماز میں فساد نہیں آتا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.