Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نور نامہ پڑھناکیسا ؟

Fatwa no.
791-WAT

Question

کیا نور نامہ پڑھ سکتے ہیں ؟

Answer (beginning)

نور نامہ پڑھنا جائز نہیں ہے، کیونکہ اس میں بے اصل روایات شامل ہیں۔ جیسا کہ امام اہلسنت فتاوی رضویہ شریف میں فرماتے ہیں: "ہندی زبان میں لکھا ہوار سالہ جو نور نامہ کے نام سے مشہور ہے، اس کی روایت بے اصل ہے اس کو پڑھنا جائز نہیں ہے، اس لئے کہ اس میں ثواب کی جگہ پر اور دعاؤں پر مطبعوں میں جو اسنادی روایتیں لکھتے ہیں وہ اکثر بے اصل ہیں۔" (فتاوی رضویہ، جلد 26، صفحہ 609،رضا فاؤنڈیشن،لاہور) وَاللهُ أَعْلَمُ عَدَ جَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم كتبه المتخصص فی الفقه الاسلامي ابورجا محمد نور المصطفى عطاری مدنی املات الهات Dar-ul-IftaAhlesunnat…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.