Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا ایک سے زائد اذانوں کاجواب دینا ضروری ہے ؟

Fatwa no.
785-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میں نے سنا ہے کہ جو اذان کے دوران میں بات چیت میں مصروف رہے بوقت موت اس کا ایمان سلب ہونے کا مخطرہ ہے۔ اب جب جہاں ہمارا اجتماع ہوتا ہے وہاں جب عصر کی اذان ہوتی ہے تو ہم خاموش ہو جاتے ہیں اور اس اذان کا جواب دیتے ہیں۔ اس کے بعد جب قریبی مسجد میں اذان ہوتی ہے تو ہم سلام و مصافحہ کر رہے ہوتے ہیں۔ تو اس دوسری اذان کے وقت میں ہمارا باتوں اور سلام و مصافحہ میں مشغول رہنا درست ہے ؟

Answer (beginning)

وقفے وقفے سے اگر مختلف اذانوں کی آوازیں آرہی ہوں تو زبان سے فقط پہلی ہی اذان کا جواب دینا کافی ہے، البتہ یہی ہے کہ سب اذانوں کا جواب دیں۔ لہذا اگر پہلی اذان کا جواب دینے کے بعد دوسری اذان کے دوران میں بہتر سلام و مصافحہ وغیرہ میں مصروف ہوں تو شرعا حرج نہیں۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَوَجَل وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِيهِ وَسَلَّم كتبه المتخصص فی الفقه الاسلامی ابواحمد محمد انس رضا عطاری مدنی Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-ifta AhleSunnat daruliftaahlesunnat Darulifta Ahlesunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.