Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نکاح خواں کے لیے دوسرے شخص کا نکاح کی وکالت لینا

Fatwa no.
782-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ہمارے ہاں نکاح پڑھانے والے قاضی صاحب دولہن کے پاس وکالت لینے جاتے ہیں تو کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ لڑکی کے بھائی یا والد ہی اس سے یہ اجازت اس طرح لے لیں کہ تم فلاں قاضی صاحب کو اجازت دیتی ہو کہ وہ تمہارا نکاح پڑھا دیں۔ وہ انہیں کہہ دے کہ میں نے فلاں قاضی صاحب کو نکاح کا وکیل کیا تو کیا اس طرح وکالت ہو جائے گی جبکہ قاضی صاحب دلہن کے پاس نہ گئے ہوں؟

Answer (beginning)

جی ہاں ! دلہن کے قاضی صاحب کو اس طرح وکیل کر دینے سے وکالت ہو جائے گی اگر چہ قاضی صاحب دلہن کے پاس وکالت لینے نہ گئے ہوں۔ کیونکہ وکیل کا وکالت دینے والے کے سامنے یا پاس ہو ناضروری نہیں۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم كتبه المتخصص فی الفقه الاسلامی ابو صديق محمد ابوبکر عطاری Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net f daruliftaahlesunnat Dar-ul-ifta AhleSunnat DaruliftaAhlesunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.