Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مقتدی کے تکبیرکہنے کے بعدامام نے سلام پھیردیا
- Fatwa no.
- 780-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) زید نماز فجر کے لئے پہنچا، اس وقت امام صاحب قعدہ میں تھے ، زید نے تکبیر تحریمہ کہی، ابھی قیام میں ہی تھا کہ امام صاحب نے سلام پھیر دیا، تو اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا زید جماعت میں شامل ہو گیا یا اسے اپنی نماز پڑھنی پڑے گی، اور اپنی نماز کے لئے تکبیر تحریمہ کہنے کی دوبارہ حاجت ہے یا وہی پہلے والی ہی کافی ہے؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں زید کی اقتداء درست نہ ہوئی کہ اقتدا کے لیے امام کے ساتھ ، نماز کے کسی جزء میں مشارکت ضروری ہے ، جبکہ صورت میں مسئولہ میں یہ مشارکت نہیں پائی گئی۔ لہذا اسے منفرد ہونے کی حیثیت سے الگ سے تکبیر تحریمہ کہہ کر نئے سرے سے نماز شروع کرنی ہو گی، اس کی پہلے والی تکبیر تحریمہ کافی نہیں ہو گی۔ فتاوی امجد یہ میں سوال ہوا " مقتدی امام کے پیچھے نیت کر کے کھڑا ہوا، جب مقتدی بیٹھنے لگا، امام نے سلام پھیر دیا، مقتدی شامل جماعت ہو ایا نہیں ؟" اس کے جواب میں مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ نے تحریر فرمایا: " بیٹھنے سے قبل سلام پھیر دیاتو شامل جماعت نہ ہوا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.