Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ہوس تھی دید کی معراج کا بہانہ تھا شعر پڑھنے کا حکم؟
- Fatwa no.
- 778-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک مصرعہ ہے ”ہوس تھی دید کی معراج کا بہانہ تھا اس میں ہوس کی نسبت اللہ پاک کی طرف کی گئی ہے تو اللہ عز و جل کیلئے لفظ ”ہوس “استعمال کرنا کیسا ہے ؟
Answer (beginning)
اللہ پاک کے لئے لفظ ہو س کا استعمال کرنا گستاخی و کفر ہے کہ اس کے معنی اللہ پاک کی شان کے لائق نہیں ہیں چنانچہ حضرت شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی رحمتہ اللہ علیہ سوال میں مذکورہ مصرعہ اور اللہ پاک کے لئے لفظ ”ہوس“ کے استعمال کا حکم بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: ” ہوس اصل میں عربی لفظ ہے اس کے اصل معنی ایک قسم کے جنون کے ہیں اور خفت عقل کے ہیں، المنجد میں ہے: "الهوس (مص) طرف الجنون وخفته العقل یقال براسه هوس ای دوران اردوی “ جس کا ترجمہ مصباح اللغات میں یوں کیا ہے: ”جنون کی ایک قسم ہے سبکی عقل “ اور کہا جاتا ہے ” براسه ھوس “ اس کے سر میں چکر ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.