Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

پڑداداکے بھائی کی پڑنواسی سے نکاح

Fatwa no.
775-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میرے پڑدادا دو بھائی تھے، ایک کی اولاد سے ہم ہیں تو دوسرے کی پڑنو اسی سے نکاح ہو سکتا ہے؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں پڑدادا کے بھائی کی پڑ نواسی کے ساتھ نکاح ہو سکتا ہے، جبکہ وہ اپنی اصل قریب کی نوع نہ ہو اور اس کے علاوہ ممانعت کی کوئی اور وجہ ( مثلا حرمت رضاعت یا حرمت مصاہرت) نہ ہو۔ جب حقیقی دادا کی پڑ نواسی سے نکاح ہو سکتا ہے تو پڑدادا کے بھائی کی پڑ نواسی سے بھی نکاح ہو سکتا ہے۔ اصل قاعدہ یہ ہے کہ اصل بعید کی فرع بعید حلال ہوتی ہے، پڑدادا کا والد اصل بعید ہے اور اس کے ایک بیٹے کی پڑ نواسی، اس کی فرع بعید ہے لہذا اس کے ساتھ نکاح ہو سکتا ہے۔ فتاوی رضویہ میں ہے " اور اپنی اصل بعید کی فرع بعید حلال۔۔۔۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.