Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بینک وغیرہ کے ذریعے قربانی کروانا کیسا؟

Fatwa no.
770-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا حج میں قربانی Islamic development bank کے ذریعے کر سکتے ہیں؟

Answer (beginning)

بینک وغیرہ کے ذریعے قربانی کروانے کے بجائے اپنی قربانی خود کریں کہ بینک وغیرہ کے ذریعے کروانے میں بہت ساری پیچید گیاں ہیں۔ لہذا اپنی قربانی خود کریں، کسی بینک وغیرہ میں قربانی کی رقم جمع نہ کروائیں۔ بینک وغیرہ کے ذریعے قربانی کروانے کے متعلق امیر اہل سنت دامت برکا تہم العالیہ تحریر فرماتے ہیں: ” آج کل بہت سارے حاجی صاحبان بینک میں قربانی کی رقم جمع کروا کر ٹوکن حاصل کرتے ہیں ، آپ ایسا مت کیجئے۔ ادارے کے ذریعے قربانی کروانے میں سرائر خطرہ ہے کیونکہ متمتع اور قارن کے لیے یہ ترتیب واجب ہے کہ پہلے رمی کرے پھر قربانی اور پھر حلق اگر اس ترتیب کے خلاف کیا تو دم واجب ہو جائے گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.