Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

انتقال کرنے والے کی طرف سے زکوۃ وفطرہ اداکرنا

Fatwa no.
671-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کی طرف سے زکوۃ، فطرہ ، ادا کر سکتے ہیں ؟

Answer (beginning)

کسی شخص کا انتقال ہوا، اور اس پر زکوۃ و فطرہ کی ادائیگی واجب تھی، مگر اس نے ادا نہیں کیسے تو اس کی طرف سے زکوۃ و فطرہ ادا کرنے کے حوالے سے تفصیل یہ ہے کہ : اگر میت نے مال چھوڑا ہو اور زکوۃ و فطرہ ادا کرنے کی وصیت بھی کی ہو تو تہائی مال میں اس کی وصیت پوری کرناضروری ہے اگر چہ ورثہ اجازت نہ دیں۔ اگر تہائی مال سے مکمل زکوۃ و فطرہ ادا نہیں ہو تا تو جو عاقل بالغ ورثہ اجازت دیں ان کی اجازت سے صرف انہی کے حصوں سے ادائیگی کی جاسکتی ہے اور جو اجازت نہ دیں یا اجازت دینے کے اہل ہی نہ ہوں یعنی غیر عاقل ہوں یا نا بالغ تو ان کے حصوں سے ادا ئیگی نہیں کی جاسکتی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.