Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مسجدکبیراورموضع سجودکی وضاحت
- Fatwa no.
- 666-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) نمازی کے آگے سے گزرنے کا کیا حکم ہے ؟ اور علماء یہ جو حکم بیان فرماتے ہیں کہ بڑی مسجد میں موضع سجود سے آگے سے گزر سکتے ہیں، تو اس میں موضع سجود سے اور بڑی مسجد سے کیا مراد ہے؟
Answer (beginning)
نمازی اگر مکان یا مسجد صغیر ( آج کل عام مساجد مسجد صغیر ہی کے حکم میں ہیں) میں نماز ادا کر رہا ہو، تو دیوارِ قبلہ تک، اور اگر صحر ایا مسجد کبیر میں نماز پڑھ رہا ہو، تو موضع سجود تک اسکے آگے سے گزرنا گناہ ہے جبکہ درمیان میں سترہ نہ ہو۔ یہاں موضع سجود سے مراد یہ ہے کہ خاشعین (یعنی ظاہری و باطنی آداب کی رعایت کرتے ہوئے مکمل توجہ کے ساتھ نماز پڑھنے والوں) کی سی نماز پڑھنے میں قیام کی حالت میں سجدہ کی جگہ کی طرف نظر کریں، تو جتنی دور تک نگاہ جائے ، وہ موضع سجود ہے۔ ملفوظات میں امام اہلسنت علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ میرا تجربہ ہے کہ یہ جگہ تین گز ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.