Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
میت کو قبرمیں لٹانے کا طریقہ
- Fatwa no.
- 656-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) بدائع الصنائع کے حوالے سے ایک حدیث پاک کی پکچر میں نے آپ کو بھیجی ہے، جس میں یہ موجود ہے کہ: "میت کو قبر میں کروٹ کے بل قبلہ رولٹاؤ، اسے نہ تو منہ کے بل اوندھا لٹاؤ، اور نہ پیٹھ کے بل چت لٹاؤ۔"(مفہوم حدیث) جبکہ ہم نے تو دیکھا ہے کہ ہمارے ہاں میت کو چت ہی لٹاتے ہیں، تو اس حدیث کا کیا مطلب ہے ؟
Answer (beginning)
حدیث پاک کا مفہوم تو بالکل واضح ہے کہ: "میت کو دائیں کروٹ پر لٹا کر اس کا چہرہ قبلہ کی جانب کر دیا جائے۔ لہذا بہتر یہی ہے کہ میت کو دائیں کروٹ پر لٹا کر اس کا چہرہ قبلہ کی طرف کیا جائے اور اس کے نیچے نرم مٹی یا ریت وغیرہ کا تکیہ بنا دیا جائے تاکہ وہ پیٹھ کے بل نہ چلی جائے۔ اور بازو کو کروٹ سے جدار کھا جائے تاکہ جسم کا بوجھ ہاتھ پر نہ آئے کہ اس سے میت کو تکلیف ہو گی۔ اور اگر میت کو چت لٹا کر اس کا چہرہ قبلہ کی جانب کر دیا جائے جیسا کہ آج کل عموم ارائج ہے تو یہ بھی جائز ہے ،اس میں کوئی گناہ نہیں لیکن افضل طریقہ وہی ہے جو حدیث پاک کے حوالے سے اوپر بیان ہوا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.