Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
شادی کے جانور میں عقیقہ کرنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 650-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) (1) کیا شادی کی دعوت میں عقیقہ کر سکتے ہیں ؟ (2) نکاح پڑھانے والے قاضی صاحب اگر لڑکی کے پاس جا کر نکاح کی اجازت نہ لیں بلکہ دولوگوں کو وکیل بنا کر اجازت لینے کے لیے بھیج دیں، اور نکاح پڑھا دیں تو نکاح ہو جائے گا ؟
Answer (beginning)
(1) جی شادی کی دعوت میں عقیقہ کر سکتے ہیں۔ یعنی شادی کے موقع پر جو جانور لیا ہے ،اسے عقیقہ کی نیت سے ذبح کر کے ،اس کا گوشت شادی کی دعوت میں بھی کھلا سکتے ہیں۔ نوٹ : یہ یادر ہے کہ عقیقے کے گوشت کا وہی حکم ہے، جو قربانی کے گوشت کا ہوتا ہے یعنی بہتر یہ ہے کہ اس کے بھی تین حصے کیے جائیں : ایک حصہ اپنے لیے ، ایک فقراء کے لیے اور ایک دوست و احباب کے لیے۔ اور اگر سار اپنے لیے رکھ لیا تو بھی جائز ہے اور اگر سارا تقسیم کر دیا تو یہ بھی جائز ہے۔ (2) نکاح کی اجازت لینے کے لیے قاضی صاحب کا خود لڑکی کے پاس جاناضروری نہیں، بلکہ اگر وکیل کے ذریعے بھی لڑکی کی اجازت مل جائے تو نکاح ہو جائے گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.