Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کتا کنوئیں میں گرا اور زندہ نکال لیا گیا تو پانی کا حکم

Fatwa no.
643-WAT

Question

ہمارے گھر کے کنویں میں غالباً رات کے وقت ایک کتا گر گیا، جسے ہم نے صبح کے وقت نکالا، کتا زندہ تھا، اور اس کے جسم پر کوئی زخم وغیرہ بھی نہیں، تھا، کنویں میں پانی بہت اوپر تک ہے ، اس صورت میں کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں اگر کتے کے بدن پر نجاست کا ہونا یقینی طور پر معلوم تھا، یا نجاست کا ہو ناتویقینی طور پر معلوم نہ تھا، لیکن کتے کا منہ پانی میں پڑا تھا، تو اس صورت میں کل پانی نکالا جائے گا کہ کتے کا لعاب (تھوک) ناپاک ہے ، اور اگر کتے کا منہ پانی میں نہیں پڑا اور اس کے جسم پر نجاست کا ہونا بھی یقینی طور پر معلوم نہیں تھا، تو اس صورت میں وہ پانی پاک ہے، البتہ بہتر یہ ہے کہ میں ڈول نکال لیے جائیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.