Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ہجڑے کے غسل وکفن کا مسئلہ
- Fatwa no.
- 629-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ہجڑہ فوت ہو جائے تو اس کا غسل و کفن مرد کی طرح کریں یا عورت کی طرح؟
Answer (beginning)
ہجڑے کو مخنث یا خنثی بھی کہا جاتا ہے، اگر مصنوعی مخنث تھا، جس کا مرد یا عورت ہو نا متعین ہے ، اور وہ پیشہ ور مخنث بنا ہوا ہے تو اس کے غسل و کفن وغیرہ کے متعلق وہی احکام ہیں، جو اس جنس کے ہوتے ہیں، جس سے اس کا تعلق ہے یعنی اگر مرد ہے تو مر دوں والے اور عورت ہے تو عور توں والے۔ اور اگر وہ حقیقتا مخنث ہے یعنی اس میں مرد اور عورت دونوں کے اعضا ہوں یادونوں میں سے کسی کا عضو نہ ہو تو اس کے متعلق تفصیل یہ ہے کہ : اگر کسی طریقہ سے یہ ثابت ہو جائے کہ وہ مرد ہے تو اس کے احکام مردوں والے ہوں گے اور اگر یہ ثابت ہو جائے کہ وہ عورت ہے تو اس کے احکام عورتوں والے ہوں گے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.