Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جان بوجھ کرتین جمعے چھوڑنا
- Fatwa no.
- 623-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی شخص جان بوجھ کر تین بار جمعہ چھوڑ دے، تو کیا وہ کافر ہو جائے گا؟
Answer (beginning)
جمعہ فرض عین ہے ، اس کی فرضیت ظہر کی نماز سے زیادہ موکد ہے ، جو اس کی فرضیت کا انکار کرے وہ کافر ہے اور ، جس شخص پر جمعہ فرض ہو ، اس کا فرض مانتے ہوئے بغیر عذر شرعی جان بوجھ کر جمعہ چھوڑ دینا، سخت ناجائز و حرام اور بیرہ گناہ ہے لیکن وہ کافر نہیں ہو گا ، احادیث طیبہ میں اس پر بہت کی وعیدات بیان کی گئی ہیں۔ چنانچہ ایک روایت میں ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے ارادہ کیا کہ ایک شخص کو نماز پڑھانے کا حکم دوں اور جو لوگ جمعہ سے پیچھے رہ گئے ، ان کے گھروں کو جلادوں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.