Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بیوی کوغصے میں آزادکے الفاظ کہنا

Fatwa no.
611-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) زید نے حالت غصہ میں اپنی بیوی سے بلانیت طلاق محض ڈرانے اور تنبیہ کرنے کی غرض سے اس کو ایک سے زائد بار یہ الفاظ کہہ دیے کہ تو میری طرف سے آزاد ہے۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ ہندو پر طلاق واقع ہوئی یا نہیں ؟

Answer (beginning)

سوال میں مذکور الفاظ ” تو میری طرف سے آزاد ہے “ ان الفاظ کنایہ میں سے ہے کہ جو جواب میں متعین ہیں اور غذا کر وہ طلاق اور غصہ کی حالت میں ان الفاظ سے بغیر نیست ایک طلاق بائن واقع ہو جاتی ہے۔ البتہ متعدد بار بولنے کے با وجود ان سے ایک ہی طلاق واقع ہوتی ہے کہ طلاق بائن کے بعد مزید ہائن طلاق کے الفاظ ہوں اور انہیں پہلی طلاق کی خبر بنانا ممکن ہو تو انہیں پہلی طلاق کی خبر قرار دیں گے اور ان سے مزید طلاق واقع نہیں ہو گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.