Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

سردی کے ضررسے بچنے کے لیے تیمم کرنا

Fatwa no.
609-WAT

Question

دارالافتاءاہلسنت (دعوت اسلامی) کسی پر غسل فرض ہو ، اور اس کا ظن غالب ہے کہ اگر وہ نہائے گا، تو سردی کی وجہ سے بیمار ہو جائے گا، تو کیا تیم کر کے نماز پڑھ سکتا ہے؟

Answer (beginning)

تیز سر دی جس میں نہانے سے بیمار ہونے کا قوی اندیشہ ہو، اور نہانے کے بعد سردی کے ضرر سے بچنے کا کوئی طریقہ نہ ہو، تو اس صورت میں تیم کر کے نماز پڑھ سکتے ہیں۔ یادر ہے ! اگر گرم پانی کر کے نہا سکتا ہو، یا پھر ٹھنڈے پانی م ، سے نہانے کے بعد ، لحاف و غیر ہ اوڑھ کر یا آگ سے تپش لیکر سردی کے ضرر سے بیچ سکتا ہو، تو اس صورت میں تیم کی اجازت نہیں۔ (بہارشریعت،ج1،ص348،مکتبۃالمدینہ) وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَوَجَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم دام الان اهلسنت Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net f daruliftaahlesunnat Darulifta…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.