Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کسی اسکول میں اپنی کتابیں بیچنے کے لیے پیسے دینا کیسا ؟
- Fatwa no.
- 608-WAT
Question
کسی کا پرائیویٹ اسکول ہے اور ایک پبلیشر کہتا ہے کہ اگر میری کتا بیں آپ کے ادارے میں چلیں، تو میں آپ کو مثلاً 40 ہزار روپے دوں گا، تو کیا اسکول کا مالک وہ رقم لے سکتا ہے ؟
Answer (beginning)
کسی پبلیشر کا اپنی کتابیں دوسرے کے اسکول میں لگوانے کے لیے اسکول کے مالک کور قم وغیر ہ دینار شوت ہے، کیونکہ وہ اسی لیے اسکول کے مالک کو ر قم و غیر ہ دے گا تا کہ اسکول کا مالک اپنے ادارے میں اس کی کتا بیں لگوائے اور کسی سے اپنا کام نکلوانے کے لیے اسے کچھ دیا جائے وہ رشوت ہوتا ہے، لہذہ پبلیشر کا اپنی کتابیں کسی کے اسکول میں لگوانے کے لیے اسکول کے مالک کو ر قم و غیر و دینا اور مالک اسکول کا اسے قبول کرنار شوت اور ناجائز و حرام ہے۔ حدیث پاک میں ہے : رشوت دینے والا اور رشوت لینے والا دونوں جہنمی ہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.