Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

چار زانو سونے سے وضو ٹوٹنے کامسئلہ

Fatwa no.
593-WAT
Issued
24 رجب المرجب 1443ھ / 26فروری 2022

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی باوضو شخص چار زانو بیٹھا بیٹھا گہری نیند میں سو گیا تو کیا اس کا وضو ٹوٹ جائے گا؟

Answer (beginning)

چار زانو بیٹھ کر گہری نیند سونے سے وضو نہیں ٹوٹے گا کہ اس صورت میں سرین جمے رہتے ہیں اور سرین جمے رہنے کی صورت میں گہری نیند سے وضو نہیں ٹوٹتا ہاں اگر چار زانو اس طرح سو یا کہ سر رانوں یا پنڈلیوں پر ہے کہ دونوں سرین جھے نہ رہے ہوں تو اس صورت میں وضو ٹوٹ جائے گا۔ تفصیل اس میں یہ ہے کہ : نیند سے وضو ٹوٹنے کے لیے دو شرائط ہیں: (1) اول یہ کہ دونوں سرین اس وقت خوب جسے نہ ہوں۔ (2) دوسری یہ کہ ایسی ہیئت پر سو یا ہو جو غافل ہو کر نیند آنے کو مانع نہ ہو۔ جب یہ دونوں شرطیں جمع ہوں گی تو سونے سے وضو جائے گا اور ایک بھی کم ہے تو نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.