Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ساس سے نکاح کاحکم
- Fatwa no.
- 584-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) زید نے ہندہ کو ضلع دے دیا ہے ، اب زید ہندہ کی ماں یعنی اپنی ساس نکاح کر سکتا ہے ؟
Answer (beginning)
زوجہ کی ماں یعنی اپنی ساس سے نکاح، ناجائز و حرام ہے ، چاہے نکاح کے بعد زوجہ سے وطی (ہمبستری) کی ہو یا نہ کی ہو ، لڑکی سے فقط عقد نکاح کرتے ہی اس کی ماں حرام ہو جاتی ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں زید ، ہندہ کی ماں یعنی اپنی ساس سے نکاح نہیں کر سکتا۔ جن عورتوں سے نکاح کرنا حرام ہے، قرآن پاک میں ان کا شمار کرتے ہوئے فرمایا: و أمَّهُتُ نِسَآبِكُمْ) ترجمہ: اور ( حرام ہوئیں تم پر) تمہاری عورتوں کی مائیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.