Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

زخم پرمسح کرنے والے امام کے پیچھے نماز

Fatwa no.
580-WAT

Question

اگر کسی امام صاحب کے اعضائے وضو پہ زخم ہو، جس پر پٹی وغیر و بندھی ہو اور وہ اس پر مسح کر کے نماز پڑھاتے ہوں، تو کیا ان کے پیچھے مکمل وضو کرنے والے کی نماز درست ہو گی ؟ ،

Answer (beginning)

اگر اعضائے وضو میں سے کسی عضو پر زخم کی وجہ سے پٹی وغیرہ باندھی ہوئی ہو اور اس پٹی پر پانی بہانا نقصان دہ ہو ، تو اس پٹی والے حصے کے علاوہ باقی اعضائے وضو کہ جن کو وضو میں دھویا جاتا ہے، ان کو دھونے کا حکم ہے اور اس پٹی وغیرہ پر مسح کرنے کا حکم ہے اور زخم وغیرہ پر عذر کی وجہ سے پٹی وغیرہ پر مسح کرنے والا ایسا ہی ہے جیسے اعضاء دھونے والا ہو ، اس لئے کہ عذر کی وجہ سے مسح کرنا ھونے کے قائم مقام ہے، لہذا اگر زخم پر بندھی پٹی پر مسح کر کے امام صاحب نماز پڑھائیں، تو نماز اور امامت کی دیگر شرائط وارکان پائے جانے کی صورت میں اُس امام کے پیچھے مکمل وضو کرنے والوں کی نماز ہو جائے گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.