Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قرآن کے ترجمہ میں اللہ کے نام کی جگہ مذکر صیغہ کا استعمال؟
- Fatwa no.
- 578-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) انگریزی میں قرآن پاک کے ترجمے میں اللہ پاک کے نام کی جگہ پر دوناون (pronoun) جیسے HE استعمال کرنے کے متعلق سوال ہے کہ He لفظ تو مر د (male) کے لیے استعمال ہوتا ہے، تو کیا اس لفظ کا استعمال اللہ پاک کے لیے کرنا درست ہے؟ برائے کرام تفصیل سے جواب ارشاد فرما دیں۔
Answer (beginning)
مذکر ہونا اور مؤنث ہونا، حیوان کی صفات و جنسیں ہیں ، جبکہ اللہ تعالی جنس ہونے سے پاک ہے۔ مذکر کا صیغہ چونکہ افضل ہے، اس لئے اعلی وافضل کے لئے اسی صیغہ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اور اللہ تبارک و تعالی نے قرآن کریم میں جہاں جہاں صیغے وضمیر کے ذریعے اپنا تذکرہ فرمایا ہے، وہاں مذکر کا صیغہ ہی استعمال فرمایا ہے۔ جیسے سورہ فاتحہ میں ایاک نعبد وایاک نستعین) میں "ک" پر زبر ہے اور یہ مذکر کی ضمیر ہے اور سورہ اخلاص میں (قل ھوالله احد) میں "ھو" مذکر کی ضمیر ہے۔ اور سورہ اخلاص میں (لم يلد ولم يولد) یہ مذکر کے صیغے ہیں۔ لہذا انگلش میں هو اللہ تعالی لے لیے بطور ضمیر He کا لفظ استعمال کرنا درست ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.