Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا وکیل زکوٰة کے پیسوں کو تبدیل کرسکتا ہے؟
- Fatwa no.
- 574-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی شخص نے زکوۃ کی رقم دی، اور کہا کہ ان پیسوں سے کسی مستحق کو سامان دلا دینا، وکیل نے اپنے پاس سے اتنی ر قم کا سامان مستحق شخص کو دلوادیا، یہ سوچ کر کہ زکوۃ کی رقم والے پیسے میں رکھ لوں گا کیا اس طرح زکوۃ ادا ہو جائے گی؟ ا
Answer (beginning)
زکوۃ کے وکیل نے اپنے پیسے زکوۃ میں دیدیے یا موکل کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق اپنے پیسوں سے سامان خرید کر مستحق زکوۃ کو دے دیا اور موکل کے پیسے اس کے عوض میں اپنے پاس رکھ دیے تو جائز ہے اور اس طرح کرنے سے زکوۃ ادا ہو جائے گی۔ لیکن یہ نہیں کر سکتا کہ پہلے زکوۃ کے پیسے اپنے اوپر خرچ کر لے اور پھر بعد میں اپنے طور پر اپنی رقم اس کی زکوۃ میں ادا کر دے بلکہ پہلے اپنی رقم سے اس کی زکوۃ ادا کرے پھر بعد میں اس کی رقم استعمال کرے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.