Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نکاح کے بعد اور رخصتی سے پہلے ہونے والی اولاد کا حکم

Fatwa no.
562-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی کا نکاح ہو انگر رخصتی نہیں ہوئی اور انکی اولاد ہو جائے تو کیا وہ نا جائز ہو گی ؟

Answer (beginning)

جی نہیں انکاح کے بعد رخصتی سے قبل ہم بستری سے ہونے والی اولاد نا جائز نہیں ہوتی۔ کیونکہ نکاح کے بعد اگرچہ رخصتی نہ ہوئی ہو، مردو عورت شرعامیاں بیوی کہلاتے ہیں، حتی کہ ایسی صورت میں شرعی طور پر میاں بیوی والے تعلقات قائم کرنا بھی جائز ہے۔ البتہ ارخصتی سے پہلے تعلقات کو ہمارے ہاں عموما معیوب سمجھا جاتا ہے، اس لیے اس سے بچنے کا کہا ہی جائے گا مگر نکاح کے بعد ہونے والی اولاد بہر صورت جائز اور شوہر کی ہی کہلائے گی ، نا جائز نہیں کہلائے گی، کیونکہ حدیث پاک میں ہے "الولد للفراش "ترجمہ: بیوی سے پیدا ہونے والی اولا د شوہر کی ہی ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.