Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مقروض کو قرض معاف کرنے سے زکوۃ ادا ہوجائیگی؟

Fatwa no.
553-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) مفتی صاحب کی بارگاہ میں عرض ہے کہ اگر کسی کے پاس ہمارا قرض ہو اور ہم اس کو قرض معاف کر دیں تو کیا ز کوۃ ادا ہو جائے گی یا نہیں ؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں قرض معاف کرنے سے قرض کی معافی تو درست ہو جائے گی مگر اس سے آپ کے دیگر اموال کی زکوۃ ادا نہیں ہوگی کیونکہ دین کی معافی، اسقاط ( اپنا حق ساقط کرنا) ہے جبکہ زکوۃ کی ادائیگی میں تملیک فقیر ( فقیر کو مالک بنانا) شرط ہے۔ البتہ آپ مقروض کو ز کوۃ دینا چاہتے ہیں اور وہ مستحق زکوۃ بھی ہے تو درست طریقہ یہ ہے کہ اپنے پاس سے زکوۃ ادا کرنے کی نیت سے اسے رقم دے دیں پھر اپنے قرض میں اس سے واپس لے لیں۔ یوں زکوۃ بھی ادا ہو جائے گی اور مقروض قرض سے بھی بری ہو جائے گا۔ ہاں فقیر پر قرض تھا اور وہ معاف کر دیا تو جتنا معاف کیا اس کی زکوۃ ساقط ہو جائے گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.