Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کسٹمر کولیب بھیجنے پرکمیشن لینا

Fatwa no.
541-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک شخص ٹریول ایجنٹ ہے ، لوگ اس سے جب ٹکٹ بنواتے ہیں، تو اس سے پوچھتے ہیں کہ ہم کرونا ٹیسٹ کہاں سے کروائیں ؟ تو وہ ان کو کہہ دیتا ہے کہ : " فلاں لیب چلے جاؤ۔ " اور اس لیب نے اس ٹریول ایجنٹ کو کہا ہے کہ آپ ہمارے پاس کرونا ٹیسٹ کروانے کے لئے جتنے افراد بھیجیں گے ہر فرد پر کچھ پیسے آپ کو ملیں گے ۔ تو ٹریول ایجنٹ کا اس طرح پیسے لینا کیسا ہے ؟

Answer (beginning)

ٹریول ایجنٹ کا اس طرح پیسے لینا، نا جائز ہے کیونکہ بیان کی گئی صورت کمیشن کی ہے۔ اور کمیشن میں ہر وگر اجرت کا اسی صورت میں حقدار ہوتا ہے ، جب وہ کوئی محنت طلب کام کرے مثلا کسی کو اس کے لیے تلاش کر کے تیار کرے یا کم از کم اس کو لیب تک لے کر جائے وغیرہ وغیرہ۔ کسٹمر سے صرف زبانی یہ کہہ دینا کہ ”فلاں لیب چلے جاؤ کوئی محنت طلب کام نہیں ہے، جس کی وجہ سے بروکر اجرت کا حقدار ہو جائے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.