Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مہر کی ادائیگی سے پہلے شوہر کا انتقال ہوگیا تو مہر کا حکم
- Fatwa no.
- 521-WAT
Question
دارالافتاءاہلسنت (دعوت اسلامی) شادی کا مہر نہیں دیا اور نہ ہی معاف کروایا اور انتقال ہو گیا، تو کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
شوہر نے اگر بیوی کا حق مہر ادا نہیں کیا اور بیوی نے معاف بھی نہیں کیا، پھر شوہر کا انتقال ہو گیا، تو شوہر کی وراثت تقسیم کرنے سے پہلے اس کی تمام جائیداد و چھوڑے ہوئے مال سے اس کے ذمے لازم تمام قرضہ جات، جن میں بیوی کا حق مہر بھی شامل ہے ، ادا کیے جائیں گے ، یہ سب رقم نکالنے کے بعد وراثت تقسیم ہو گی اور بیوی کو مہر کے علاوہ، وراثت میں سے جتنا اس کا حصہ بنتا ہے ، وہ بھی ملے گا۔ اور اگر شوہر سے پہلے بیوی کا انتقال ہو گیا، تو بیوی کا حق مہر اس کے سب ورثامیں وراثت کے اصولوں کے مطابق تقسیم ہو گا اور اس میں سے شوہر بھی وراثت کے اصولوں کے مطابق، اپنا بننے والا حصہ رکھے گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.