Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

زندہ شخص یا علمائے دین کے وسیلے سے دعا مانگنا؟

Fatwa no.
513-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کسی کے وسیلے سے دعامانگنا جائز ہے، تو کیا جو زندہ ہے اس کا وسیلہ بھی پیش کیا جاسکتا ہے مثلا علمائے دین کے وسیلے سے دعامانگی جائے ؟

Answer (beginning)

جی ہاں ! اللہ کے نیک بندے زندہ ہوں، تب بھی ان کے وسیلے سے دعامانگنا جائز ہے اور وہ دنیا سے پردہ فرما جائیں ،تب بھی ان کے وسیلے سے دعا مانگنا جائز ہے۔ چنانچہ بخاری شریف کی حدیث پاک ہے: ” أن عمر بن الخطاب رضی الله عنه، كان إذا قحطوا استسقى بالعباس بن عبد المطلب، فقال: «اللهم إنا كنا نتوسل إليك بنبينا فتسقينا، وإنا نتوسل إليك بعم نبينا فاسقنا»، قال : فيسقون “ ترجمہ : جب لوگ قحط میں مبتلا ہوتے تو حضرت عمر ابن خطاب جناب عباس ابن عبد المطلب کے توسل سے بارش کی دعا کرتے اور عرض کرتے : الہی ! ہم تیری بارگاہ میں اپنے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کا وسیلہ پیش کرتے تھے تو ، تو ہم پر بارش بھیجتا تھا اور اب ہم…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.