Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

غیر اللہ سے مانگنا شرک ہے؟

Fatwa no.
510-WAT
Issued
28 جمادی الاخرى 1443ھ / 01 فروری 2022ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کچھ لوگ کہتے ہیں کہ غیر اللہ سے دعامانگنا شرک ہے کیونکہ دعا عبادت ہے اور غیر اللہ کی عبادت کرنا شرک ہے ، تو آپ اس کے متعلق رہنمائی فرمائیں؟

Answer (beginning)

اللہ کے نیک بندوں کو مخاطب کر کے ان سے مانگتاد عا نہیں ہے بلکہ ان کو اللہ پاک کی بارگاہ میں اپنی حاجت کے لئے وسیلہ بنانا ہے اور اللہ پاک کی بارگاہ میں نیک بندوں کا وسیلہ پیش کرنابالکل جائز ہے جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو دور کعت پڑھنے کے بعد ایک دعا سیکھائی، جس دعا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وسیلہ پیش کیا گیا ہے ، بلکہ ایک روایت میں تو یہ الفاظ ہیں کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ میری حاجت پوری فرمائیں “ جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ میری حاجت روائی کا سبب بنیں، چنانچہ جامع ترمذی میں ہے: ” أن رجلا ضرير البصراتی النبي صلى الله عليه وسلم فقال : ادع الله أن يعافيني قال…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.