Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نام بھاری سمجھ کر بدلنا کیسا ہے؟
- Fatwa no.
- 507-WAT
- Issued
- 28 جمادی الاخری1443ھ /01 فروری 2022ء
Question
(دعوت اسلامی) میرے گھر بیٹے کی ولادت ہوئی ہے ہم نے اس کا نام محمد حمزور کھا ہے لیکن وہ بہت زیادہ روتا ہے گھر والے کہتے ہیں کہ اس کا نام بدل دو، ایسا کرناکیسا ہے ؟
Answer (beginning)
محمد حمزہ نام رکھنا شرعا جائز ہے، حمزہ، نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے پیارے صحابی، چیا کا نام ہے اور اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی حدیث پاک میں ترغیب دلائی گئی ہے، لہذا اس سے برکت کی امید رکھی جائے۔ اور یہ کہنا کہ یہ نام بھاری ہے، اس لیے بدل دیا جائے ، یہ درست نہیں ہے ، نام بھاری نہیں ہوا کرتے۔ پھر بلاوجہ یہ نظریہ رکھنا کہ اس نام کی وجہ سے بچہ روتا ہے یہ بد شگونی لینا ہے، جس کی شرع میں ممانعت ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.