Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قرآنی آیات کورومن میں لکھنا

Fatwa no.
486-WAT
Issued
22 جمادی الاخرى 1443ھ / 26 جنوری 2022 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) قرآنی آیات کو رومن میں لکھنا حرام ہے۔ اس کی وجہ اور حوالہ کیا ہے؟

Answer (beginning)

قرآن کریم کو رومن میں لکھنا، ناجائز و حرام اور گناہ ہے۔ کیونکہ قرآن کریم کو خاص رسم عثمانی میں لکھنا فرض ہے ، رسم عثمانی کا خلاف کرنا، ناجائز و حرام ہے ، جس کے دلائل یہ ہیں: (الف) رسم قرآنی توقیفی ( شرع کی طرف سے مقرر کی گئی) ہے ، قیاسی نہیں ہے ، رسول اللہ عزو جل وصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے خاص کاتبین، آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی ہدایت کے مطابق قرآن پاک کی کتابت کرتے ، اسی رسم کی پابندی، صحابہ کرام علیہم الرضوان نے کی ، جو آج بھی جاری ہے۔ (ب) اس رسم میں خاص اسرار الہیہ و مقاصد جلیلہ ہیں، جو دوسرے رسم میں نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.