Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جمعہ کے خطبہ میں عصا پکڑنے کاکیا حکم ہے؟

Fatwa no.
479-WAT
Issued
01 ربیع الاول 1444ھ/28 ستمبر 2022ء

Question

جمعہ کے خطبہ میں عصا پکڑنا کیسا؟

Answer (beginning)

دورانِ خطبہ عصا ہاتھ میں لینے سے بچنا ہی بہتر ہے مگر جب کوئی عذر ہو کیونکہ بعض علما نے اسے سنت لکھا ہے اور بعض نے ملکر وہ لکھا ہے ، اور جس کام کے سنت اور مکر وہ ہونے میں اختلاف ہو اس سے بچنا بہتر ہوتا ہے۔ رد المحتار میں ہے "وما تردد بین السنة والبدعة بتركه "ترجمہ : اور جس کام کے سنت اور بدعت ہونے میں شک ہو تو اسے ترک کردے گا۔ (ردالمحتار مع الدر المختار، باب الاعتکاف،ج02،ص441،بیروت) فتاوی رضویہ میں ہے " خطبہ میں عصا ہاتھ میں لینا بعض علماء نے سنت لکھا اور بعض نے مکر وہ اور ظاہر ہے کہ اگر سنت بھی ہو تو کوئی سنت مؤکدہ نہیں، تو بنظر اختلاف اس سے بچنا ہی بہتر ہے مگر جب کوئی عذر ہو۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.