Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قرض میں دی ہوئی رقم کی زکوٰۃ کا حکم؟
- Fatwa no.
- 466-WAT
Question
؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) قرض پر زکوۃ دینی ہوتی ہے، تو جور قم قرض میں دی ہوئی ہے اس کی زکوۃ، قرض دینے والے پر لازم ہے یا لینے والے
Answer (beginning)
قرض میں دی ہوئی رقم کی زکوۃ ، قرض لینے والے پر نہیں ، قرض دینے والے پر لازم ہے، اور یہ اپنی شرائط کے مطابق ہر سال لازم ہوتی رہے گی، البتہ جور قم قرض دی ہے ، اس کی زکوۃ کی ادائیگی اس وقت واجب ہے کہ جب مقدار نصاب سے کم از کم پانچواں حصہ موصول ہو جائے ، اور ایسی صورت میں جتنی موصول ہو، اس پر اس کے حساب سے زکوۃ دینا لازم ہوتی ہے یعنی پانچواں حصہ وصول ہوا تو اس پانچویں حصے کی جتنی زکوۃ بنتی ہے، صرف اتنی ہی ادا کر نافی الحال لازم ہے، اور جتنے سالوں بعد حاصل ہوئی اتنے سالوں کی شرائط کے مطابق زکوۃ ادا کر نالازم ہو گا، لیکن اگر وصولی سے پہلے ہی اس ساری رقم کی زکوۃ ادا کر دیتے ہیں، تب بھی اس رقم کی…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.