Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ظہرکی نمازمیں بھولے سے ایک آیت بلندآوازسے پڑھنا
- Fatwa no.
- 452-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) نماز ظہر کی پہلی رکعت میں امام صاحب نے سورت فاتحہ کی پہلی آیت بلند آواز سے پڑھ لی، پھر یاد آیا، تو وہیں سے آگے آہستہ آواز سے پڑھنے لگے ، تو کیا سجدہ سہو واجب ہو گیا ؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں جب امام صاحب نے ظہر کی نماز میں بھولے سے پہلی آیت کو بلند آواز سے پڑھا، پھر یاد آنے پر وہیں سے آگے بقیہ قراءت آہستہ آواز سے مکمل کی تو ان پر سجدہ سہو واجب ہو گیا، لہذا اگر آخر میں سجدہ سہو بھی کر لیا، تو اس صورت میں امام اور مقتدیوں کی نماز بغیر کسی کراہت کے درست ہو گئی اور اگر سجدہ سہونہ کیا تو نماز واجب الاعادہ ہوئی۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ظہر و عصر میں سری (آہستہ آواز سے قراءت کرنا واجب ہے، تو جب بھول کر ایک آیت بلند آواز سے پڑھی اور پھر اس کے بعد یاد آنے پر ، اس کا تدارک نہیں کیا بلکہ وہیں سے قراءت آہستہ آواز سے مکمل کی تو واجب ترک ہو گیا لہذا سجدہ سہو واجب ہو گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.