Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے ذریعے اولادحاصل کرنا

Fatwa no.
450-WAT

Question

(دعوت اسلامی) ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے ذریعے بیوی کے رحم میں مرد کا نطفہ رکھا جاتا ہے، تو کیا یہ جائز ہے ؟ مسئلہ یہ ہے کہ شوہر کو کوئی بیماری ہے ، ڈاکٹر نے کہا ہے کہ عمومی طریقے سے، ہمبستری کر کے بچہ پیدا نہیں کرنا، مرد کامادہ منویہ نکال کر اسے جراثیم سے پاک کر کے ، اس کی بیوی کے رحم میں داخل کیا جائے، تو مسئلہ نہیں بنے گا، پوچھنا یہ ہے کہ کیا یہ جائز ہے؟

Answer (beginning)

ٹیسٹ ٹیوب بی بی کے ذریعہ اولاد حاصل کرنے کی صرف ایک ہی صورت جائز ہے ، اس کے علاوہ جتنے بھی معروف طریقے ہیں، سب ناجائز و حرام ہیں۔ جائز طریقہ : عورت کے رحم میں اسی کے شوہر کا نطفہ بذریعہ ٹیوب پہنچایا جائے اور یہ کام اسی کا شوہر کرے یادہ عورت خود کرے۔ ناجائز طریقے : اس کے علاوہ ٹیسٹ ٹیوب بے بی کی دیگر معروف صورتیں مثلاً شوہر کے نطفے کو خود بیوی یا شوہر کے علاوہ کوئی اور رحم میں رکھے یا اس کے شوہر کے علاوہ کسی غیر کے نطفے کو اس کے رحم میں رکھے، خواہ رکھنے والا شوہر یا خود بیوی ہی ہو ، یہ تمام صورتیں حرام ہیں کیونکہ ان صورتوں میں بلا ضرورت شرعیہ غیر کے سامنے ستر کھولنا یا پھر غیر کا نطفہ ، جو کہ…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.