Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

طوائفہ ماں کے ساتھ حسن سلوک

Fatwa no.
444-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر ماں طوائفہ ہو جائے تو کیا اس کا احترام و عزت کرنی جائز ہے ؟

Answer (beginning)

طوائفہ بنا، بہت سارے ناجائز و حرام کاموں میں مشتمل ہے ، جو اللہ تعالی کے غضب کو ابھارنے والے اور جہنم میں لے جانے والے ہیں ، اس لیے جو اس برے کام میں مبتلا ہو ، اس پر لازم ہے کہ پکی سچی توبہ کرے ، اس برے کام سے باز آئے اور اس کے تقاضے پورے کرے۔ اور جہاں تک ایسی والدہ کے احترام و عزت کا تعلق ہے، تو والدہ ہونے کے ناطے ، اس کا احترام ، عزت اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا شرعا، جو حکم ہے ، وہ اولاد کے ذمہ لازم ہی رہے گا۔ ہاں ناجائز کاموں میں اس کا معاون بنے یا نا جائز کاموں میں اس کی اطاعت کرنے کی شرعا اجازت نہیں ہو گی لیکن ایسے کام کرنے کا وہ کہے تو اچھے انداز سے منع کیا جائے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.