Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قضانمازپہلے پڑھے یاادا

Issued
15 جمادی الاخری 1443ھ / 19 جنوری 2022

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی کی کسی دن کی فجر ، ظہر اور عصر کی نمازیں قضا ہو گئیں، اب جب وہ مغرب کی نماز پڑھے گا، تو کیا پہلے اسے قضا شدہ نمازیں ادا کرنی پڑیں گی یاوہ پہلے مغرب کی نماز بھی پڑھ سکتا ہے؟

Answer (beginning)

اگر وہ شخص صاحب ترتیب ہے ( یعنی اس کی چھ سے کم نمازیں قضاء ہوئی ہیں) اور وقت میں گنجائش بھی ہے ، تو اب اس کے لیے لازم و ضروری ہے کہ وہ پہلے اپنی قضاء نمازیں ادا کرے اور اس کے بعد وقتی فرض نماز ادا کرے اور اگر صاحب ترتیب شخص کو اپنی قضاء نماز یاد تھی اور وقت میں وسعت ( گنجائش) بھی تھی، اور اسے ترتیب والا مسئلہ بھی معلوم تھا لیکن اس کے باوجو داس نے گزشتہ نماز قضاء کئے بغیر وقتی فرض نماز پڑھ لی، تو اس کی نماز نہیں ہو گی یعنی موقوف رہے گی کہ اگر وقتی پڑھتا گیا اور قضار ہنے دی، تو جب دونوں مل کر چھ ہو جائیں گی یعنی چھٹی کا وقت ختم ہو جائے گا تو ، سب صحیح ہو گئیں اور اگر اس درمیان میں قضا پڑھ لی تو…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.