Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نفاس والی سے اوراس کی چیزوں سے پرہیزکرنا
- Fatwa no.
- 392-WAT
Question
نفاس والی عورت کی چار پائی الگ لگائی جاتی ہے، اسے بیڈ پر سونے نہیں دیتے، چالیس دن کے دوران وہ جس جس جگہ سے گزری ہو اسے دھویا جاتا ہے ، چالیس دن کے دوران جتنے کپڑے پہنے ہوں، انہیں دوبارہ نہیں پہنا جاتا۔ اس بارے میں کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
آپ کی بیان کردہ تمام باتیں، تو ہمات پر مبنی ہیں، یہ کافروں کی رسمیں ہیں، جن سے بچنا ضروری ہے ، شریعت میں ایسی کوئی ممانعت نہیں ہے۔ بہار شریعت میں ہے "نفاس میں عورت کو زچہ خانے سے نکلنا جائز ہے، اس کو ساتھ کھلانے یا اس کا جھوٹا کھانے میں حرج نہیں۔ ہندوستان میں جو بعض جگہ ان کے بر تن تک الگ کر دیتی ہیں بلکہ ان برتنوں کو مثل نجس کے جانتی ہیں، یہ ہندؤوں کی رسمیں ہیں ، ایسی بے ہودہ رسموں سے اختیاط لازم ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.