Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عورت کے سر کے بال بیچنا کیسا؟

Fatwa no.
370-WAT
Issued
24 جمادی الاولی 1443ھ / 29 دسمبر 2021 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) عورتوں کے بالوں کی خرید و فروخت کرنا کیسا ہے ؟

Answer (beginning)

انسانی بالوں (خواہ مرد کے ہوں یا عورت کے ، بہر صورت ان کی خرید و فروخت کرنا، نا جائز و حرام اور گناہ ہے اور ان سے کسی قسم کا فائدہ اٹھانا جیسے کئی لوگ ان سے وگیں تیار کرتے ہیں وغیر ہ تو یہ بھی حرام اور گناہ ہے۔ پھر عورت کے بال تو ستر میں بھی داخل ہیں، جدا ہونے کے بعد بھی انہیں غیر محرم کو دکھانا اور غیر محرم کا انہیں دیکھنا ، جائز نہیں، لہذا اس وجہ سے بالخصوص عورت کے بال بیچنے کی حرمت میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.