Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کاشت کے لیے زمین بٹائی یااجارے پردینا
- Fatwa no.
- 362-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) (الف) کسی کو اپنی زمین اس طور پر کاشت کے لئے دینا کہ جو کچھ پیداوار ہو گی وہ دونوں میں آدھی آدھی ہو گی کیا ایسا کرنا جائز ہے؟ (ب) اور کچھ مدت مثلاً ایک سال کے لئے پیسوں کے بدلے اجارہ پر دینا کیسا ہے ؟
Answer (beginning)
(الف) کسی کو اپنی زمین اس طور پر کاشت کے لئے دینا کہ جو کچھ پیداوار ہو گی وہ دونوں میں آدھی آدھی یا ایک تہائی، دو تہائی تقسیم ہو گی ، اس کے لئے چند شرائط ہیں، اگر وہ پائی جائیں تو یہ معاملہ درست ہے ورنہ درست نہیں ۔ شرائط درج ذیل ہیں: (۱) عاقدین، عاقل، بالغ، آزاد ہوں۔ (۲) زمین قابل زراعت ہو ۔ (۳) زمین معلوم و متعین ہو۔ (۴) مالک زمین، کاشتکار کو زمین سپر د کر دے، خود کام نہ کرے۔ (۵) مدت معلوم ہو کہ کتنے عرصے کے لیے دی جارہی ہے۔ (۶) یہ طے ہو کہ زمین میں کیا بوئے گا یا تقسیم کر دے کہ جو جی چاہے، وہ بوئے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.