Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قسطوں پر لئے گئے پلاٹ پر زکوۃ کا حکم؟

Fatwa no.
348-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ہم دو پلاٹ قسطوں پر خریدنا چاہتے ہیں، ایک پر مکان بنائیں گے اور ایک پلاٹ کو سیل کر کے اس سے حاصل ہونے والی رقم سے گھر تعمیر کریں گے۔ پوچھنا یہ ہے کہ ان پر زکوۃ کا کیا حکم ہو گا ؟

Answer (beginning)

زمین ، پلاٹ یا جائیداد و غیر و پر اسی صورت میں زکوۃ ہوتی ہے کہ جب اسے بیچنے کی نیت سے خریدا ہو، اور نہ اس پر ز کوۃ نہیں ہو گی ، لہذ ا صورت مسئولہ میں جو پلاٹ گھر بنانے کے لیے خریدا جائے گا، اس پر زکوۃ فرض نہیں ہو گی اور جو پلاٹ آپ اس نیت سے خریدیں گے کہ اسے سیل کریں، تو اس کی زکوۃ سال بہ سال فرض ہو گی، جبکہ قرض اور حاجات اصلیہ (ضرورت کی چیزوں مثلا ہنے کا مکان، پہنے کے کپڑے وغیرہ) کو نکالنے کے بعد آپ مالک نصاب بنتے ہوں اور زکوۃ کی ادائیگی میں قیمت خرید کا اعتبار نہیں، بلکہ جس تاریخ کو نصاب پر قمری سال مکمل ہو رہا ہے ، اس دن کی قیمت کا اعتبار کیا جائے گا مثلاً آپ نے وہ پلاٹ 5لاکھ کا خریدا تھا…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.