Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سودی لین دین کرنے والی کمپنی میں اکاونٹنٹ کی جاب کرنا
- Fatwa no.
- 346-WAT
- Issued
- 09 جمادی الاولی 1443ھ /14 دسمبر 2021 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایسی کمپنی جو سودی لین دین کرتی ہو اس میں بطور اکاؤنٹنٹ جاب کرنا کیسا ہے ؟ جبکہ اس اکاؤنٹنٹ کو اس سودی لین دین کا حساب بھی رکھنا پڑے گا۔
Answer (beginning)
ایسی کمپنی میں جاب کر نانا جائز و گناہ ہے۔ کیونکہ کسی بھی جگہ ملازمت کرنے کے بارے میں قاعدہ یہ ہے کہ ہر وہ ملازمت جس میں خود ناجائز کام کرنا پڑے جیسے سود کا لین دین کرنا پڑتا ہو یا سود سے متعلقہ کوئی بھی کام کرنا پڑتا ہو تو ایسی ملازمت ناجائز و حرام ہے۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَزوَجَل وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم دار الافتاء اهلسنت DARUL IFTA AHLESUNNAT Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net f daruliftaahlesunnat Darulifta Ahlesunnat Dar-ul-ifta AhleSunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.