Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

زخم سے نکلنے والے پانی کاحکم

Fatwa no.
313-WAT
Issued
03 جمادی الاولی 1443ھ / 08 دسمبر 2021ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) زخم سے پیپ والا پیلا پانی لکھتا ہے کیا یہ ناپاک ہے ؟

Answer (beginning)

زخم سے نکلنے والا پانی خواہ وہ شفاف مثل پانی ہو یا خون یا پیپ ملا ہوا پانی ہو ، وہ نکل کر بہے اور اس بہنے میں ایسی جگہ پہنچنے کی صلاحیت تھی جسے وضو یا غسل میں دھونے کا حکم ہے۔ تو یہ ناپاک ہے اور جہاں لگے گا اسے بھی نا پاک کر دے گا۔ اور اگر ایسا نہیں یعنی صرف ابھراہے، بہا نہیں یا بہا لیکن ایسی جگہ پہنچنے کی صلاحیت نہیں کہ جسے وضو یا غسل میں دھونے کا حکم ہے مثلا آنکھ کے اندرونی حصے میں زخم ہے اور اس سے بہنے والا پانی آنکھ کے اندرونی حصے میں ہی رہا، تو وہ پانی ناپاک نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.