Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نمازی کے آگے سے عورت گزر جائے تو نماز کا حکم؟

Fatwa no.
312-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) نمازی کے آگے سے عورت گزر جائے تو کیا نماز ٹوٹ جاتی ہے ؟

Answer (beginning)

اگر کوئی شخص مکان یا چھوٹی مسجد میں نماز پڑھ رہا ہو اور اس کے آگے کوئی آڑ ( یعنی سترہ کی مقدار کوئی چیز ) نہ ہو تو دیوار قبلہ تک نمازی کے آگے سے گزرنا جائز نہیں ہے، لہذا اس سے اجتناب کیا جائے اور اگر کوئی مرد یا عورت نمازی کے آگے سے گزر جائے تو اس سے نمازی کی نماز نہیں ٹوٹے گی یہاں گزرنے والا گنہ گار ہو گا۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَدَ جَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم دار الافتاء اهلسنت DARUL IFTA AHLESUNNAT Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-ifta AhleSunnat f…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.