Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کام کرنے والے کے پاس اونچی آواز سے تلاوت کرنا

Fatwa no.
299-WAT

Question

(دعوت اسلامی) اگر زید کسی جگہ بیٹھ کر مطالعہ کر رہا ہو اور پھر کوئی آکر کر وہاں اونچی آواز سے تلاوت کرناشروع ہو جائے، تو اب زید مطالعہ چھوڑ کر تلاوت سنے یا مطالعہ جاری رکھے ؟ اور اگر وہ مطالعہ جاری رکھے گا، تو وہ گناہ گار تو نہیں ہو گا ؟

Answer (beginning)

صورتِ مسئولہ میں زید مطالعہ چھوڑ کر تلاوت سنے یا مطالعہ جاری رکھے، دونوں چیزوں کا اسے اختیار ہے، مطالعہ چھوڑ کر تلاوت سنتا اس پر لازم نہیں کیونکہ تلاوت سننے کی غرض سے حاضر ہوں، تو استماع قرآن ( توجہ سے تلاوت سننا فرض ہے لیکن اگر کوئی پہلے ہی سے اپنے کسی کام میں مصروف ہو اور وہاں کوئی اونچی آواز سے تلاوت شروع کر دے تو اس کام کرنے والے کے لیے تلاوت سننے کا یہ حکم نہیں ہو گا، بلکہ اگر کوئی اور یہ تلاوت سننے والا نہیں ہے تو اس صورت میں اونچی آواز سے تلاوت کرنے والا گناہ گار ہو گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.