Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مسبوق کا امام کے ساتھ سلام پھیرنے کی مختلف صورتیں
- Fatwa no.
- 298-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) امام صاحب کچھ رکھتیں پڑھا چکے تھے اور کوئی آکر جماعت میں شامل ہوا، لیکن جب امام نے آخری سلام پھیرا، تو اس مقندی نے بھی سلام پھیر دیا، پھر اسے یاد آیا کہ میری تو رکعتیں باقی ہیں، تو اس صورت میں اگر وہ سجدہ سہو کرے گا، تو اس کی نماز ہو جائے گی ؟
Answer (beginning)
اس کی مختلف صورتیں ہیں: (1) امام کے ساتھ مسبوق قصد اسلام پھیرے، یہ خیال کر کے کہ مجھے بھی امام کے ساتھ سلام پھیرنا چاہیے تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی۔ (2) اور اگر بھول کر امام کے بالکل ساتھ ساتھ سلام پھیرے، تو نہ نماز فاسد ہو گی اور نہ سجدہ سہو لازم۔ (3) اور اگر مسبوق بھولے سے امام کے ذرا بعد سلام پھیرے، تو اس پر سجدہ سہو لازم ہو گا کہ وہ سلام پھیرتے وقت منفر د ہو چکا تھا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.